ایمان کابیان (توحید)

کلمۂ طیّبہ

’’لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌالرَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘

اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں۔ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں :۔

دنیا کو گمراہی سے نجات دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیاکے مختلف خطوں میں پیغمبر اوررسول مبعوث فرمائے ۔جنہوں نے وقتا فوقتا اپنی قوموں کو توحید کی تبلیغ کی اورگمراہی سے نکال کر سیدھی راہ پرلگایا۔
اسلام کا پہلا ستون اورپہلابنیادی عمل توحید ورسالت کا اقراراورایمان کی شہادت ہے۔توحید کامقصدہے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی جائے اوراس کے ساتھ کسی کوشریک نہ کیا جائے اوررسالت اسلام کے بنیادی کلمے یعنی کلمۂ طیبہ کادوسراحصہ ہے ۔جس کامطلب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پرایمان لایاجائے ۔کلمۂ طیبہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی ر ضامندی اور تابعداری میں گم کردے ۔اورحقیقی نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے ماں ۔ باپ۔ بیٹے۔ بیوی۔ دوست اورہرشخص اورہر شئی کی ذرہ برابر بھی محبت نہ ہو ۔
شرک کی تردید اورتوحید کی تائیدمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو غلط روی سے ہٹ کر راہِ حق پرچلنے کی تاکید کی ہے اورایسا نہ کرنے والوں کو سخت وعیدبھی کی ہے ۔
توحید کے یہ معنی نہیں کہ زبان سے اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا اقرار کیاجائے اوراپنی حاجتوں اورمرادوں کے لئے دوسروں کو پکارا جائے ۔بلکہ توحید کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کو ہربات کا مالک ومختار بنایا جائے اوردل میں اس بات کا پختہ یقین ہو کہ سب اس کے سامنے عاجز اوربے اختیار ہیں ۔

کلمۂ شہادت

اَشْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لہٗ وَاَشْہَدُاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘

میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورگواہی دیتاہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اوراسکے رسول ہیں

کلمۂ تمجید

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللَّہُ اَکْبَرُ۔ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ‘‘

اللہ کی ذات پاک ہے اورتمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں ، اوراللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوراللہ بہت بڑاہے ، اورگناہوں سے
بچنے کی طاقت اورنیک کام کرنے کی قوت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جو عالیشان عظمت والا ہے ۔

کلمہ توحید

لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَہُوَ حَیٌّ لَّایَمُوْتُ

اَبَدًااَبَدًا۔ ذُوالْجَلَا لِ وَالْاِ کْرَامِ ۔ بِیَدِہِ الْخَیْرُ۔ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیئ قَدِیْرٌ

اللہ کے سواکوئی مبعود نہیں وہ اکیلا ہے ، اس کاکوئی شریک نہیں ،بادشاہت اسی کی ہے ،اورسب تعریفیں اسی کے لئے
ہیں، وہ زندہ کرتا اور مارتاہے ، اوروہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہے ، وہ مرے گا نہیں ، عظمت اوربزرگی والا ہے ،بہتری اسی کے
ہاتھ میں ہے ، اور وہ ہرچیز پرقادر ہے ۔

کلمہ استغفار

اَسْتَغْفِرُاللّہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطاأ سِرًّا اَوْعَلَانِیَۃً وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْٓ اَعْلَمُ
وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَآاَعْلَمُ۔ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُالْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ
وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ

میں اللہ سے معافی مانگتاہوں جومیرا پروردگار ہے ، ہرگناہ سے جو میں نے کیاجان کر یابھول کر درپردہ یاکھلم کھلا اورمیں توبہ کرتاہوں اس کے حضورمیں اس گناہ سے جو مجھے معلوم ہے ، اوراس گناہ سے جو مجھے معلوم نہیں ،بے شک توغیبوں کا جاننے والا ہے، اور عیبوں کا چھپانے والا ہے ، اورگناہوں کا بخشنے والاہے ، اورگناہوں سے بچنے کی طاقت اورنیک کام کرنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے جو عالیشان اورعظمت والا ہے ۔

کلمہ رَدِّ کفر

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُشِرِکَ بِکَ شَیْءًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَآاَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ
وَتَبَرَّأتُ مِنَ الْکُفْرِوَالشِّرْکِ وَالْکِذْ بِ وَالْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ وَالْبُہْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ کُلِّہَا
وَاَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔

اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ کسی چیز کو تیرا شریک بناؤں اورمجھے اس کاعلم ہو اورمیں معافی مانگتاہوں تجھ سے اس (گنا ہ)سے جس کا مجھے علم نہیں ،میں نے اس سے توبہ کی اوربیزارہوا کفر سے اورشرک سے اورجھوٹ سے اورغیبت سے اور بدعت سے اورچغلی سے اوربے حیائی کے کاموں سے اورتہمت لگانے سے اورباقی ہرقسم کی نافرمانیوں سے اورمیں ایمان لایا اورمیں کہتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔